حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، برطانیہ کے مسلمانوں نے انسانی ہمدردی اور فلاحی امداد کے میدان میں نمایاں برتری حاصل کر لی ہے، جہاں وہ ملک کے سب سے زیادہ عطیات دینے والے طبقے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، برطانیہ کے مسلمان ہر سال تقریباً 2.2 ارب پاؤنڈ فلاحی امور پر خرچ کرتے ہیں، جو برطانوی شہریوں کے اوسط عطیات سے تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔
ایک معتبر برطانوی ادارے کی جانب سے کی گئی تازہ سروے رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مسلمان برطانوی معاشرے کے سب سے زیادہ سخی اور فعال عطیہ دہندگان ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ مسلمانوں کی بڑی تعداد اپنی فلاحی امداد بین الاقوامی انسانی منصوبوں کے لیے مختص کرتی ہے، تاہم برطانیہ کے اندر بھی ایسے بے شمار امکانات موجود ہیں جنہیں بروئے کار لا کر کئی رکے ہوئے سماجی منصوبوں کو فعال بنایا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی اس سخاوت کی بنیاد اسلامی تعلیمات، بالخصوص زکات اور صدقہ پر ہے۔ زیرِ جائزہ مسلم فلاحی اداروں کے جمع شدہ فنڈز میں سے تقریباً 40 فیصد زکات پر مشتمل ہوتے ہیں، جبکہ باقی 60 فیصد دیگر رضاکارانہ عطیات سے فراہم کیے جاتے ہیں۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب تک مسلمانوں کی زیادہ تر امداد بین الاقوامی سطح پر صرف ہوئی ہے، جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے درمیان گہری یکجہتی کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ برطانیہ میں مقیم مسلمانوں میں ایک نسلی اور ثقافتی تبدیلی آ رہی ہے، جس کے تحت مقامی سطح پر فلاحی سرگرمیوں میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔
خاص طور پر تیسری اور چوتھی نسل کے نوجوان برطانوی مسلمان تیزی سے مقامی مسائل جیسے بے گھری، غذائی عدم تحفظ اور بچوں کی غربت کے خاتمے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوجوان اور باشعور مسلمان اپنی مقامی برادریوں میں موجود واضح بحرانوں پر فوری ردِعمل دے رہے ہیں، جو نہایت مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔









آپ کا تبصرہ